اپنی آمدنی(پیسوں)کو مہینے کی آخری تاریخ تک استمعال کرنے کا نسخہ

      Comments Off on اپنی آمدنی(پیسوں)کو مہینے کی آخری تاریخ تک استمعال کرنے کا نسخہ

تحریر
ملک زیشان حسین
یہ واقعہ ان دنوں کا ہے،جب میری آمدنی بہت کم تھی اور میں اپنی زندگی سے
مطمئن نہیں تها،شادی شدہ ہونے کیوجہ سے میرے اخراجات میری آمدنی سے کہیں
زیادہ تهے،مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی سار ے پیسے ختم ہوجاتے اور قرض لینا
پڑتا، یوں آہستہ آہستہ قرضوں کی دلدل میں ڈوبتا جارہا تها ،اور میرا یقین بنتا
جا رہا تها کہ اب میری زندگی اسی حال میں ہی گزرے گی، قرضوں کے بوجه میں تو
سانس لینا بهی دشوار ہوتا ہے.
ایک دن میں اپنے دوستوں میں بیٹھا تھا ،وہاں اس دن ایک ایسا دوست بهی موجود
تها جو صاحب رائے آدمی تها اور میں اپنے اس دوست کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے
دیکهتا تها،میں نے اسے باتوں باتوں میں اپنی کہانی کہہ سنائی اور اپنی مالی
مشکلات اس کے سامنے رکهیں ، اس نے میری بات سنی اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ
تم اپنی آمدنی میں سے کچه حصہ صدقہ کے لیے مختص کرو، میں نے حیرت سے کہا :
جناب مجهے گهر کے خرچے پورے کرنے لیے قرضے لینے پڑتے ہیں اور آپ صدقہ نکالنے
کا کہہ رہے ہیں؟
خیر میں نے گهر آ کر اپنی بیوی کو ساری بات بتائی تو بیوی کہنے لگی : تجربہ
کرنے میں کیا حرج ہے ؟ ہو سکتا ہے اللہ جل شانہ تم پر رزق کے دروازے کهول دے .
میں نے ماہانہ اپنی آمدنی میں سے کچھ پیسے صدقہ کے لیے مختص کرنے کا ارادہ
کیا.اور مہینے کے آخر میں اسے ادا کرنا شروع کردیا.
سبحان اللہ ! قسم کها کر کہتا ہوں میری تو حالت ہی بدل گئی، کہاں میں ہر وقت
مالی ٹینشوں میں اور سوچوں میں رہتا تها اور کہاں اب میری زندگی گویا پهول ہو
گئی تهی ، ہلکی پهلکی آسان ،قرضوں کے باوجود میں خود کو آزاد محسوس کرتا تها
ایک ایسا ذہنی سکون تها کہ کیا بتاوں.
پهر چند ماہ بعد میں نے اپنی زندگی کو سیٹ کرنا شروع کیا ، اپنی آمدنی کو حصوں
میں تقسیم کیا ، اور یوں ایسی برکت ہوئی جیسے پہلے کبهی نہی ہوئی تهی.میں نے
حساب لگا لیا اور مجهے اندازہ ہو گیا کہ کتنی مدت میں اِنشاءاللہ قرضوں کے
بوجه سے میری جان چهوٹ جائی گی.
پهر اللہ جل شانہ نے ایک اور راستہ کهولا اور میں نے اپنے ایک عزیز کے ساتھ مل
کر لائٹنگ کے کام میں حصہ لینا شروع کیا ، اس پر مجهے مناسب پرافٹ حاصل ہوتا.
الحمدللہ !
میں یہاں پر بهی وہی عمل دوہراتا کہ مجهے جب بهی پرافٹ ملتا میں اس میں سے
اللہ کے لیے صدقہ ضرور نکالتا.

اللہ کی قسم صدقہ کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے جس نے اسے آزمایا ہو.
صدقہ کرو، اور صبر سے چلو ، اللہ کا فضل سے خیر و برکتیں اپنی آنکهوں برستے
دیکهو گے.

جب آپ کسی مسلمان کو آمدنی میں سے صدقہ کے لیے رقم مختص کرنےکاکہیں گے اور وہ
اس پر عمل کرےگا تو آپ کو بهی اتنا ہی اجرملے گا جتنا صدقہ کرنے والے کو ملے
گا، اور صدقہ دینے والے کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی،

سوچیے !!!
آپ اس دنیا سے چلے جائیں گے اور آپکے سبب آپکے پیچهے کوئی صدقہ کررہاہو گا

 ایسے ہی اگر آپ نے یہ تحریر (میسج) آگے نشرکیی اور کسی نے صدقہ دینے کا
معمول بنا لیاآپ کے لیے بهی صدقہ دینے والے کے مثل اجرہے.
جیسے میں نےصدقہ کرنے کا معمول بنایا ، اور قسم کها کر کہتا ہوں مجهے سب سے
زیادہ فرق میری ذہنی حالت پر پڑا ،ایک ایسا اطمئنان محسوس ہوتا ہے کہ جسکا
جواب نہیں.
میرے عزیز!!!
اگر صدقہ کرنے والا جان لے اور سمجه لے کہ اس کا صدقہ فقیر کے ہاته میں جانے
سے پہلے اللہ کے ہاته میں جاتا ہے تو یقینا دینے والے کو لذت لینے والے سے
کہیں زیادہ ہو گی.

بہترین صدقہ اس وقت یہ ہے کہ آپ اس میسج کو دوسروں تک پہنچائیں۔